عرفان عابدی مانٹوی

تحریر: عرفان عابدی مانٹوی، ایڈیٹر ثبات سہ ماہی رسالہ

تحریر پوسٹ: ہندوستان کی سیاست طوائف کے بستر سے کم نہیں کب کون عریانی ذہن و دماغ کے ساتھ گدی نشیں ہو جاتا ہے سمجھ میں نہیں آتا۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ جو سب سے بڑا ظالم، جابر، بدنام ہے وہی سیاست کا ماہر کھلاڑی مانا جاتا ہے المیہ اس بات کا بھی ہے کہ عزیز وطن کی سیاسی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہیں کہ ۹۰ فیصد سیاست دان جونا اہل ہیں وہی فاتح ہیں اور ۱۰ فیصد جو اہلیت رکھتے ہیں وہ یا تو دگرگوں ہیں یا جیت کر بھی شکست خوردہ معلوم ہوتے ہیں۔ اب تو ایک پڑھا لکھا انسان بھی سیاست کی گدی کو کوڑے سے تیار تکیہ سمجھنے لگا اور اس پر بیٹھنے سے گھبرانے لگا اگر چہ در حقیقت سیاست کوئی عیب دار مشغلہ نہیں ہے بلکہ اسے برا بنایا گیا ورنہ اسلام میں تو سیاست دین کا ستون ہے اور ہر مذاہب کی ضرورت ہے مگر اس طرح کی سیاست نہیں جو کئی برس سے تجارت کی شکل اختیار کرکے سود حاصل کرتی ہے، کل کی سیاست وطن کی کمر کو خم ہونے سے روکتی تھی آج کی سیاست وطن کی کمر توڑنے پر بضد ہے جس کی گواہی بیہار کی مٹی بھی دے گی۔

وطن عزیز میں کوئی بھی ایسی سیاسی پارٹی نہیں ہے جسمیں برائ کثرت سے نا ہو البتہ اتنا ضرور ہے کہ کچھ پارٹیاں دیگر پارٹی کے مد مقابل ٹھیک ٹھاک ہیں یعنی کام چلائو ہیں۔ اور انتخابات کے بعد سننے کو ملتا ہے کہ جو پارٹی قدر غنیمت تھی وہی شکست خوردہ ہے اور جس پارٹی کا ظلم اور غلط مقصد واضح تھا وہی فاتح ہے افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ ہمارے سیاست دان کے لئے جاہل ہونا جیسے کامیابی کی سند ہے، انگوٹھا چھاپ لیڈر انگوٹھا ٹھیک کرنے والے طبیب کی کھٹیا کھڑی کر دیتا ہے، کھچڑی اور چاول کی لالچ میں جیسے تیسے پانچ سال پڑھ لینے والا لیڈر بھوکے رہ کر پڑھنے والے علماء، ادباء، قابل افراد پر مقدمہ کرواتا ہے، غربت کی دال پی کر بننے والا نیتا غریبوں کو دال اور بھات سے بھی مایوس کر دیتا ہے، بچپن میں فصلوں میں چوری چھپے گنّا، آلو چرانے والے نیتا اب کسانوں کی فصلوں پر سوال اٹھانے لگے جب ایسی صورت حال ہو تو سیاست کا فاتحہ پڑھ لینا چاہیے۔

بیہار کا الیکشن اس لئے بہت اہم تھا کہ ہر انصاف پسند کو امید تھی کہ اس بار بیہار غلطی نہیں کرے گا کیونکہ پورے ہندوستان نے مزدور کے پائوں کے چھالے دیکھا تھا، بارش میں تیرے ہوۓ گھروندے کو قریب سے دیکھا تھا، غربت کی معراج کو اخبار کی سرخی بنتے دیکھا تھا، گذشتہ سرکار کی ناکامیاں عیاں تھیں، بے گناہ ، مظلوم کو زندان میں جاتے آتے متعدد بار دیکھا ان سب کے باوجود بھی بیہار نے وہ پایا جسکا کھونا اچھا تھا اور جس کو کھویا اسکا پانا اچھا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ بہار کی عوام کی خاطر یاد ماضی سچ مچ عذاب تھی مگر حافظہ اتنا کمزور تھا کہ چند ماہ بعد ہی عذاب کو بھول کر دوبارہ عذاب میں مبتلا ہونے کی حرکت کر ڈالی، یہی وقت تھا جسمیں اگلے پانچ سال کو پچھلے پانچ سال سے کچھ بہتر کرنے کی کرنیں جاگ جاتیں۔۔ مگر افسوس بیہار میں بہار تو دور خزاں کا موسم ہی سرتاجی کر رہا ہے رپورٹ کے مطابق آج جس صوبے کا جوان سب سے زیادہ بے کار ہے وہ یہی صوبہ ہے تو کیا اب سمجھ لینا چاہیے کہ مصیبت کو دعوت اپنی تھالی میں ہے دے دی گئ کیونکہ جب تک بدکار بیہار میں سلطانی کرے گا بیہار کا جوان بے کار ہی رہے گا۔

دوسرا المیہ یہ بھی ہے کہ جس مشین کے ذریعے ووٹ لیا جاتا ہے اسکا اختیار منصفانہ ہاتھوں میں نہیں ہے اور اسی لئے بہار سے شکایت بھی سامنے آئی کہ عوام کے ووٹوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا اگر یہ بات درست ہے تو مخالف پارٹیوں نے اتنی ہمت کیوں نہ جٹائ کہ انقلاب برپا کریں کیا تھوڑا چلانے کے بعد خاموشی ہی انکے گلے کا ہار بن گئی اگر مخالف پارٹیوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکیں تو دوسرے کے حقوق کی لڑائی کی امید ان سے نہیں کی جا سکتی ۔

کرونا بیماری جب اپنی ابتدا میں تھی اسی وقت سے مزدوروں، غریبوں کو پا پیادہ اپنے گھر کے لۓ نکلنا پڑاتھا اور سنگھاسن پر بیٹھا ہوا مفلوج الذہن نے ان کی مدد تو دور انہیں بیہار میں داخل ہونے سے منع کر دیا تھا آخر اتنا پیدل چلنے کے بعد بھی عقل گھٹنے میں ہی رہ گئ اور جس نے ظلم کیا اسے ہی اپنے سر پہ سوار کر لیا. "ایک بیہاری سو پر بھاری ” کا نعرہ اپنا دم توڑتا کیوں نظر آرہا ہے، کیوں عوام اپنے فیصلہ لینے سے پہلے اتنا بھی نہیں سوچتی کہ سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہے۔ کیا اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ اگلا پانچ سال کسی اور کے ہاتھ دے کر اسے آزمایا جاۓ کیونکہ یہ پانچ سال تو کورے کاغذ کی طرح ہی رہا نہ اس پر ترقی کی تحریر لکھی گئی نہ حمایت کی داستان، نہ ہمدردی کی عبارت لکھی گئی نہ محبت کے الفاظ۔ پھر کیوں کاغذ کو کورا چھوڑنے والے کو اپنے نصیب کا لکھاری بنا دیا۔

بیہار ایک عظیم صوبہ مانا جاتا ہے اور بیہار نے اپنا لوہا دنیا کے کونے کونے میں منوایا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بیہار کی مٹی زرخیز ہے جس نے ہیرا صفت انسانوں کو جنم دیا ہے اور محنت و جدت یہاں کے مردم کی رگوں میں لہو کی طرح ہے۔ اتنے صفات ہونے کے باوجود اگر بیہار غلط فیصلہ کر لے تو دیگر چھوٹے اور کمزور صوبوں سے کیا توقع رکھی جاۓ گی۔ یہ نسل جو ۳۰ سال کے اوپر ہیں انہوں نے تو بیہار کو چوپٹ ہوتے ہوۓ دیکھا ہے ایسا لگتا ہے انہیں عادت سی ہو گئ ہے مگر جدید نسل تو ترقی یافتہ عصر میں پیدا ہوئی ہے اس وقت کا جوان ملازمت چاہتا ہے، ترقی چاہتا ہے، بلندی مانگتا ہے، عروج تک پہنچنے کے لۓ زینہ تلاش کرتا ہے مگر جب سے میں نے ہوش سنبھالا بیہار میں کوئی ایسا رہنما نہیں دیکھا جو یہ سب دینے کا وعدہ کرتا اور نبھاتا۔ کمال تو تب ہوا جب بیہار میں جیتنے کے لیے ایک پارٹی نے کرونا بیماری کی دوا مفت میں دینے کا وعدہ کر لیا یعنی اگر جیتے تو علاج ہوگا وگرنہ مرتے رہو۔۔۔پارٹیاں اس طرح کے وعدے پہلے نہیں کرتی تھیں مگر چند برسوں سے ہی ایسا کیوں ہونے لگا کیونکہ سیاسی پارٹیاں یہ جانتی ہیں کہ عوام کی کمزوری جو زیادہ ٹریند کرے اسے نشانہ بنایا جائے چلۓ نشانہ بنائیے مگر پورا تو کیجئے۔۔۔ بیہار نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ جو دوا ابھی ملک میں آئی نہیں اور یہ بھی طے نہیں کہ ایسی دوا کتنی مہنگی ہوگی آیا حکومت پر اس چیز کا اعتبار ہے کہ دوا کے آتے ہی پارٹی کے افراد جمع آوری نہ کرنے لگیں گے یا اصل قیمت سے بیشتر قیمت میں فروخت نہیں کریں گے ؟؟؟ اگر اس پر عتبار بھی کر لیا جاۓ تو اصل مسئلہ ملک کی آبادی کا ہے اگر بیہار میں مفت دوا دی جائے گی تو کیا دوسرے صوبے مفت میں دوا حاصل کرنے کی گزارش حکومت سے نہیں کریں گے؟؟ یقیناً کریں گے اور ایسے میں سرکار اپنے وعدے کی مخالفت کرے گی۔۔۔۔
جس پارٹی پر انتخابات سے پہلے بھروسہ تھا کہ وہ بیہار کی باگ دوڑ سنبھالے گی اس پارٹی کی بھی خامیاں کسی سے عیاں نہیں ہے مگر خراب آلو اور کچے آلو میں فرق ہے خراب آلو کو پھینکا جاتا ہے کچے آلو کو وقت دیا جاتا ہے کہ اچھے سے پک جاۓ پھر دیکھا جائے کہ ذائقہ کیسا ہے؟… اب آپ خود سمجھ لیں کچے آلو اور خراب آلو سے مراد کونسی پارٹی ہے۔۔ آلو کی مثال اس لۓ دیا کہ اس سے ملتا جلتا نام بیہار کا چہرہ ہوا کرتا تھا۔

بحر حال بیہار نے غلطی تو کردی مگر خبر موصول ہوئی کہ شاید شکست خوردہ پارٹی کوئی منصوبہ بندی کرکے فاتح پارٹی کو شکست دے سکتی ہے ۔۔۔اب کیسے ہوگا کب ہوگا اسکا بیہار کو انتظار ہے۔ لیکن انتظار انتظار نہ رہ جائے اسکا بھی خدشہ ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں