مفتی اعظم لبنان
مفتی اعظم لبنان

پاکستان میں سوشل میڈیا پرشام میں اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بےحرمتی کے حوالے زیر گردش افواہوں پر لبنان کے معروف سنی عالم ومفتی اور عالمی اتحاد علمائے مقاومت کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر ماہر حمود نے مجلس وحدت مسلمین کے توسط سے پاکستان کے شیعہ سنی عوام کے نام کے ایک اہم ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس کا اردو متن پیش خدمت ہے ۔

الحمد لله والصلاة والسلام على محمد رسول الله وآله وصحبه أجمعين،مجلس وحدت مسلمین سے تعلق رکھنے والے میرے عزیز بھائیو! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،

آپ کے توسط سے پاکستان کی عزیز عوام کی خدمت میں عرض ہے، شام میں طویل عرصہ سے جنگ، اور امریکہ اور اسرائیل کی زور زبردستی اور استکبار کے سامنے شام کے نہ جھکنے والے موقف نے ان کی ساری سازشیں خاک میں ملا دی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سازش کرنے والے جھوٹ کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے، بہت سارے جھوٹے پروپیگنڈوں میں سے ایک یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، کہ شامی فوج نے خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کھود کر ان کی بے حرمتی کی گئی، ہمیں بھی یہ خبر 10 دن پہلے پہنچی، تو ہم نے بھی اعلی سطح پر رابطے کئے، جس کے بعد شام کے وزارت اوقاف نے ویڈیو اور تصویروں سمیت ایک بیان جاری کیا، جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے، کہ ضریح کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے، وہ بالکل سالم حالت میں ہے، صرف کچھ دیواروں کو نقصان پہنچا ہے، وہ بھی ان مسلح دہشت گردوں کی طرف سے، جنہوں نے اس ضریح پر قبضہ کیا تھا۔

جو بھی حق جاننا چاہتے ہیں، ان سب سے کہنا چاہتا ہوں، کہ حقیقت ہی ہماری سردار ہے، حق کبھی باطل نہیں بن سکتا، اور باطل کبھی حق، اگرچہ باطل کی طرف بلانے والوں کی آوازیں بلند ہی کیوں نہ ہوں، اور ان کی تعداد زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

جھوٹ کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ بات کو بڑھا چڑھا کے پیش کرنا، بات کو بیان کرتے وقت مبالغہ کرنا، دوسری قسم یہ کہ آدھی حقیقت بیان کرنا، تیسری قسم یہ کہ بات گھڑ لینا، جسے لغت میں بہتان کہتے ہیں، عمر بن عبد العزیز کی ضریح مبارک پر حملے کی خبر بہتان ہے، اور مکمل طور پر گھڑا ہوا قصہ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور جس میں ذرا برابر بھی سچائی نہیں،

سب یہ بات جان لیں کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں حقیقت ہے، کسی چینل کی خبر نہیں، اور ہمیں اللہ کی رضا کے سوا کسی بھی چیز کی پروا نہیں،

جب سے شام میں بحران شروع ہوا ہے، ان کے جھوٹ سن سن کر ہم عادی ہو گئے ہیں، کبھی کسی بچے کی کہانی گھڑ لیتے ہیں، کہ اسے قتل کیا گیا ہے، بعد میں دیکھتے ہیں کہ وہی بچہ زندہ ہے، اسی طرح سے کیمیائی اسلحہ کی کہانی گھڑی گئی، اور بعد میں پتہ چلا، کہ وہ سب کچھ جھوٹی تصویروں پر مبنی فسانہ تھا، اسی طرح اور بھی مثالیں دی جا سکتی ہے، جن کے ذکر کا ابھی وقت نہیں۔

البتہ اس جھوٹ نے ہمیں بہت تکلیف دی، کیونکہ یہ بالکل بھی گھڑی گئی کہانی ہے، جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں، جس میں ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا گیا ہے، جو سب کے نزدیک قابل احترام ہیں، اور جنہوں نے تاریخ میں بہت اچھا کردار ادا کیا، اور بڑی مصیبت یہ ہے، کہ جنہوں نے یہ فسانہ گھڑا ہے، اور جھوٹ بولا ہے، وہ خود مقدس شخصیات کی قبروں کو ڈھانا جائز سمجھتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے گرامی قدر صحابی حجر بن عدی، عمار بن یاسر، اور بہت سارے اللہ کے صالح بندوں کی قبریں کھودنے اور ان کی بے حرمتی کرنے پر فخر کیا، اور انہوں نے یہی سیرت لیبیا بلکہ جہاں بھی گئے اپنائی، وہ خود یہ غلط اور بیہودہ کام کرتے ہیں اور پھر دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں،

اس تذکرے کے ساتھ کہ حضرت عمر بن العزیز کی قبر مبارک پہلے سے مٹی ہوئی ہے، یعنی قبر کے اوپر کوئی چیز بنی نہیں ہے، بلکہ مٹی ہے، اور قبر کے اوپر مسجد نما عمارت بنی ہوئی ہے، تو اس قسم کی قبر خود ان (وھابیوں اور تکفیریوں) کے نزدیک بھی شرعی حیثیت رکھتی ہے، اور اس میں کوئی بدعت نہیں۔

ہم یہ سب سے کہتے ہیں، خوف خدا کریں، اللہ سے ڈریں، شام میں سازش مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے، شروع میں کہا کہ یہ ظلم و ستم کے خلاف جنگ ہے، بعد میں انہوں نے حکومت کی طرف منسوب کرنے والے ظلم و ستم سے کئی گناہ بڑھ کر وہاں کے لوگوں پر ظلم و جور کیا، انہوں نے کہا، کہ یہ سب کچھ شامی عوام کے لئے ہے، جبکہ ہم نے دیکھا کہ خود شامی عوام نے اپنے صدر کی حمایت کی، ان کو ٹھکرایا، اور ان سے برات کا اظہار کیا، کہا کہ یہ اقتصاد کی خاطر ہے، ابھی خود شام کا اقتصادی محاصرہ کیا ہوا ہے، کہا یہ اسلام کی خاطر ہے، جبکہ دیکھا گیا کہ خود کفر کر رہے ہیں، قتل کر رہے ہیں، اور ان خوارج کی طرح ذبح کر رہے ہیں جو دین سے نکل گئے تھے۔

شام میں جو کچھ بھی ہوا، وہ ان نعروں کے بالکل مخالف اور برعکس تھا جو شروع میں ان کی طرف سے بلند کئے گئے، سب کو اور خصوصا ان  لوگ کو کہتا ہوں جو یہ پروپیگنڈے کرتے ہیں،اب وقت آگیا ہے، کہ وہ یہ کام بند کردیں، اور اللہ کی رضا کے حصول کی کوشش کریں، اور صلح کی طرف آگے بڑھیں جس میں امت کی وحدت کا پیغام ہو، جس میں ساری قوتوں کو اسرائیل اور امریکی استکبار کے خلاف مقاومت کی خاطر یکجا کرنے کی دعوت ہو،

قران میں ارشاد رب العزت ہے
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُـوْنُـوْا قَوَّامِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّـٰهِ وَلَوْ عَلٰٓى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِـدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْـرًا فَاللّـٰهُ اَوْلٰى بِـهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْـهَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَاِنْ تَلْوُوٓا اَوْ تُعْـرِضُوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرًا (135) صدق اللہ العظیم

اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو (اور وقت آنے پر) اللہ کی طرف گواہی دو اگرچہ خود پر ہو یا اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں پر، اگر کوئی مالدار یا فقیر ہے تو اللہ ان کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے، سو تم انصاف کرنے میں دل کی خواہش کی پیروی نہ کرو، اور اگر تم کج بیانی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بلاشبہ اللہ تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے۔

والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں