پی آئی اے

تحریر: ضمیر حسین (متاثرہ مسافر)

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں گلگت ٹو اسلام آباد اور پھر اسلام آباد ٹو کراچی کی کنیکٹنگ فلائٹ 604 اور 369 ( 20500) کی بکنگ 9 دسمبر کو کرا دی تھی۔ فلائٹ سے عین 50 منٹ پہلے گلگت ائیرپورٹ پہنچا لیکن ایئرپورٹ میں موجود دو بندوں نے میری ٹکٹ پہلے ہی سیل کر دی تھی جس وجہ سے مجھے بورڈنگ پاس دینے سے یہ کہہ کے انکار کیا کی آپ لیٹ آگئے ہیں جبکہ اسی دوران میرے سامنے تین بندوں کو پاس دیکر بھیجا گیا جس پر میں نے عملے سے لڑائی کی اور عملے نے مجھے دوپہر کی فلائٹ میں ایڈجسٹ کرنے کے وعدے سے روکا۔

جب دوپہر کو دوسری فلائٹ پہنچی تو مجھے آخر میں ایڈجسٹ کرنے کا کہا گیا اور آخر میں جب بورڈنگ مکمل ہوئی تھی۔ تب تک عملے کے دو بندوں نے مجھے نئی سیٹ خریدنے کا کہا جبکی میرے پاس پہلے سے بوکنگ موجود تھی۔ میں نے کہا اپ لوگوں نے وعدہ کیا ہے کی آپ مجھے میری مینوئل سیٹ پر ایڈجسٹ کرینگے اب نئی سیٹ کس لئے خریدوں تو دونوں صاحبان نے انٹرنیٹ سروس کا بہانہ بنایا کی آپ ابھی نئی خریدے جب آپ اسلام آباد پہنچیں گے تو آپ کو پہلی والی ریفنڈ کر دینگے۔ اور یوں 15700 کی نئی ٹکٹ مجھے خریدنے پر مجبور کیا گیا چونکہ میرا اسلام پہنچنا لازمی تھا سو نئی ٹکٹ خرید کر اسلام آباد پہنچا۔

اور معلوم کرنے پر پتا چلا کہ مجھے گلگت سے فری سیٹ میں ایڈجسٹ کر کے 15700 وصول کئے ہے جبکہ میری پرانی والی ہیری کلاس ہے جو کہ تقریبا مفت تھی تو وہ ریفنڈ نہیں ہوسکتی۔ اور یوں پی آئی اے گلگت عملے نے 20500 کی ٹکٹ کو 36200 تک پہنچایا۔ پی آئی اے کی گلگت بلتستان کے مسافروں کے ساتھ ناانصافی کہ یہ کوئی پہلی کہانی نہیں ہے اور اگر ہماری حالت یہی رہی تو شاید آخری بھی نہیں ہوگی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں